ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پرامن بند کے ذریعہ شہریان کرناٹک کے اتحاد کا بے لاگ مظاہرہ؛ جابجا احتجاجی مظاہرے اور جلوس،پولیس کا معقول بندوبست، عوام کا زبردست ردعمل

پرامن بند کے ذریعہ شہریان کرناٹک کے اتحاد کا بے لاگ مظاہرہ؛ جابجا احتجاجی مظاہرے اور جلوس،پولیس کا معقول بندوبست، عوام کا زبردست ردعمل

Sat, 10 Sep 2016 01:31:21    S.O. News Service

بنگلور، 9 ستمبر (یو این آئی/ایس او نیوز) سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق کرناٹک حکومت کی جانب سے کاویری ندی کا پانی تملناڈو کے لئے چھوڑے جانے کے خلاف کرناٹک میں آج بند سے جنوبی اضلاع میں معمولات زندگی بری طرح متاثر رہے جبکہ ریاست کے دیگر حصوں میں بند کا ملا جلا اثر رہا۔ کچھ چھوٹے موٹے واقعات کو چھوڑ کر بند پرامن رہا۔ پولیس حکام نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کی ہدایت دے رکھی ہے۔ میسورو،منڈیا، ہاسن، چامراجنگر، کورگ اور بنگلور اضلاع میں مکمل بند رہا۔ساحلی علاقے میں آٹورکشا اور ٹیکسیوں سمیت عوامی گاڑیاں سڑکوں سے ندارد رہیں۔ بمبئی۔کرناٹک اور حیدرآباد کرناٹک علاقے میں بند کا جزوی اثر رہا۔ریاست میں 1000 سے زیادہ تنظیموں نے آج صبح سے شام تک پوری ریاست میں بند کا اعلان کیا ہے۔ اسپتال، ادویات کی دکانوں، دودھ کی سپلائی اور اخبار تقسیم جیسی ضروری خدمات کو بند سے مستثنی رکھا گیا ہے۔بند کی وجہ سے عموما مصروف رہنے والی بنگلور کی سڑکوں پر بھی سناٹا چھایا رہا۔پوری ریاست کی سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ ندارد رہیں اور تجارتی ادارے، اسکول اور کالج، سرکاری دفتر، بینک، سرکاری اورپرائیویٹ شعبہ کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنیوں، اے پی ایم سی بازار اور دیگر تمام عوامی ادارے بھی بند رہے۔بند کی وجہ سے ریل اور ہوائی سفر پر کوئی اثر نہیں پڑا لیکن ہوائی اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر کوئی گاڑی نہیں ہونے سے مسافروں کو منزل تک پہنچنے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شمالی کرناٹک کے کچھ اضلاع میں نجی بس آپریٹروں نے بسیں چلانے کی کوشش کی تو کسانوں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے بسوں پر پتھراؤ کیا جس سے کچھ گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے کرناٹک کو حکم دیا تھا کہ وہ 10 دن تک کاویری دریا سے روزانہ 15 ہزار کیوسک پانی تملناڈو کے لیے چھوڑے۔ کرناٹک حکومت کی طرف سے عدالت کے حکم پر عمل کرنے کے بعد سے ہی پوری ریاست خاص طورپر جنوبی کرناٹک میں زبردست احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔کرناٹک میں اس سال کم بارش ہوئی ہے جس کی وجہ سے پہلے ہی وہاں پانی کے ذخائر کم ہیں۔ایسے میں عدالت کے فیصلے کے خلاف کسان اور سماجی کارکن سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔امن و قانون قائم رکھنے کے لیے پولیس نے پوری ریاست میں 65 ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا ہے جس میں مرکزی مسلح ریزرو فورس اور ریپڈ ایکشن فورس کے چار دستوں کے ساتھ ساتھ مسلح افواج کی سینکڑوں کمپنیاں، ہوم گارڈ اور پولیس کو تعینات کیا گیا ہے۔بند کے دوران کلبرگی میں بنگلور ممبئی ایکسپریس کو روکنے کی کوشش کر رہے 12 سے زیادہ بند حامیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ہڑتال کی وجہ سے سنیما ہال، ہوٹل، پٹرول پمپ بند رکھے گئے ہیں۔ ریاست کے سنیما اور ٹیلی ویزن سے منسلک فنکاروں نے بھی بند کی حمایت کی ہے۔تملناڈوکو پانی کی فراہمی کے خلاف عوام کے احتجاج کے سبب آج جہاں تعلیمی اداروں کو ریاست چھٹی کا اعلان کیاگیا تھاوہیں شہر بنگلور سمیت ریاست کے گوشے گوشے میں کنڑا پرچموں کو لہراتے دیکھا گیا، خاص طور پر قدیم میسور علاقوں میں بند پر عوام کا اس قدر ردعمل شاید ہی پہلے ہوا ہوگا۔ دریائے کاویری سے پڑوسی ریاست کو پانی کی فراہمی پر عوام کے اس قدر شدید غم وغصہ میں کنڑا فلمی ستاروں نے بھی ساتھ دیا۔ اور ان لوگوں نے بھی آج نکالی گئی ریلی میں حصہ لے کر کاویری احتجاج سے اپنی یگانگت کا اظہار کیا۔ اداکار شیوراجکمار،گنیش،پنت راجکمار، اپیندرا، درشن، دیوراج،اداکارہ تارا، بھارتی وشنو وردھن، لیلاوتی، شروتی، راگنی، امولیہ وغیرہ نے بھی احتجاج میں حصہ لیا۔ دوسری طرف عوام کی طرف سے بھی بند میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے اور کرناٹک کے خلاف ہوئی ناانصافی پر آواز اٹھانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ لیکن ان تمام سرگرمیوں کے درمیان آج شہر کی بعض آئی ٹی بی ٹی کمپنیوں نے بند میں حصہ نہیں لیا اور اپنے کاروبار کو حسب معمول جاری رکھنے کی کوشش کی تو مانیتا ٹیک پارک کے قریب کنڑا نواز تنظیموں کے کارکنوں کو احتجاج کرنا پڑا۔ کیمپے گوڈا انٹرنیشنل ایرپورٹ میں کرناٹکا رکشنا ویدیکے کی خاتون کارکنوں نے گھسنے کی کوشش کی جنہیں گرفتار کرلیا گیا۔ 


مسلم محلوں میں بند کا اثر: تملناڈو کو کاویری کے پانی کی فراہمی کے خلاف ریاستی عوام کے جذبات سے آواز ملاتے ہوئے شہر بنگلور اور ریاست کے دیگر علاقوں میں مسلم آبادی والے محلوں میں بھی بند کا زبردست ردعمل دیکھا گیا۔راجدھانی بنگلور کے تقریباً تمام مسلم محلوں میں بند مکمل اور کامیاب رہا۔ صبح سے ہی جہاں ان محلوں میں دکانیں اور دیگر کاورباری مراکز بند رہے وہیں نماز جمعہ کے بعد بھی ان محلوں میں مسلم نوجوانوں نے کرناٹک کا روایتی پرچم تھام کر گشت کیا۔ اور کاویری کے مسئلے سے یگانگت کا مظاہرہ کیا۔ شہر کے شیواجی نگر،ٹیانری روڈ، سٹی مارکیٹ، گوری پالیہ نیز بیشتر مسلم محلوں میں صورتحال تقریباً ایسی ہی رہی۔ اس بند میں مکمل طور پر شامل ہوکر مسلمانان بنگلور وکرناٹک نے یہ تاثر قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے کہ ریاست کی زمین، زبان اور پانی کے مسئلے پر کسی بھی طرح کی ناانصافی کو قطعاً برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس معاملے میں وہ برادران وطن کے شانہ بشانہ احتجاج میں شامل رہیں گے۔ بند کیلئے پولیس کامعقول بندوبست کیا گیاتھا۔

کرناٹک بند پر کرن مجمدار شا کا طنز; بنگلور کا نام بدل کر بند لور رکھنے کا مشورہ 
 ایک طرف ساری ریاست کرناٹک کاویری مسئلے پر ہوئی ناانصافی کے خلاف احتجاج کررہی تھی تو دوسری طرف شہر بنگلور میں اپنی تجارت چلاکر ہزاروں کروڑ روپے بٹور رہی بائیو کان کمپنی کی سربراہ کرن مجمودار شا نے بند پر طنز کرتے ہوئے بنگلور کا نام بدل کر بند لور رکھ دیا جائے۔ ٹیوٹر پر ظاہر کئے گئے اس ردعمل پر کنڑا تنظیموں نے شدید مزاحمت کا اظہار کیا ہے۔ کرن مجمودار نے مختلف مسائل پر بارہا بند کے اہتمام پر طنز کرتے ہوئے یہ ٹیوٹ کیاتھا، جیسے ہی کنڑا کارکنوں نے اس پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا کرن نے اپنے ٹیوٹر کھاتے سے یہ ٹیوٹ حذف کردی۔ سوشیل میڈیا میں اس ٹیوٹ پر شدید ردعمل کا اظہار کیاگیا اور ان سے معذرت خواہی کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ان کی اس حرکت کو اوجھی اور ناپسندیدہ قرار دیا گیا۔ کنڑا نواز تنظیموں نے اس ردعمل پر شدید مزاحمت کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ کرناٹک میں اپنی تجارت کے ذریعہ ہزاروں کروڑ روپے حاصل کرنے والی کرن مجمدار شا کو کرناٹک میں رہنا ہے تو کرناٹک کے مفادات کی ترجمان بند کر رہنا ہوگا۔ کرناٹک کے مفادات سے جڑے کسی احتجاج کو اگر وہ گوارا نہیں کرپارہی ہیں تو وہ ریاست سے جاسکتی ہیں۔ اس دوران کنڑا چلوولی لیڈرواٹال ناگراج نے بائیو کان کی سربراہ کے طنزیہ جملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ کاویری مسئلے پر کئے گئے بند پر طنز کرکے کرن مجمدار نے یہ ثابت کردیاہے کہ وہ پاگل ہوچکی ہیں اسی لئے فوری طور پر ان کا داخلہ نمہانس میں کرادیا جاناچاہئے۔ بند کے اہتمام میں آئی ٹی بی ٹی کمپنیوں کی عدم دلچسپی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے واٹال ناگراج نے کہاکہ بعض آئی ٹی بی ٹی کمپنیوں نے بند کے باوجود اپنا کام جاری رکھا۔ جو کہ ریاست کے مفادات کے عین خلاف ہے۔16/ ستمبر کو کرن مجمدار شا اور ان کمپنیوں کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔


Share: